کیا آپ کو لگتا ہے کہ دیویندر فڑنویس مہاراشٹر کے اگلے وزیر اعلیٰ ہوں گے؟
بقول اُن کے، ’’یہ کہنا کہ ایم کیو ایم ریاست سے وفادار نہیں، غلط سوچ ہے؛ جس کی میں قطعی طور پر تردید کرتا ہوں۔۔۔۔۔ پارٹی کے ریاست کے خلاف کوئی غلط عزائم نہیں۔ ایم کیو ایم محبِ وطن تھی، ہے اور رہے گی‘‘
متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے کنوینر، ندیم نصرت کا کہنا ہے کہ ’’ایم کیو ایم کے اندر ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوئی‘‘، بلکہ ’’ایک مصنوعی قیادت پیدا کی جا رہی ہے‘‘، اور یہ کہ ’’مائنس ون فارمولا کہ الطاف بھائی کو سیاست سے الگ کر دیا جائے، کامیاب نہیں ہوگا‘‘۔
اِس سوال پر کہ ایسا ’’کیوں‘‘ ہے، اُنھوں نے کہا کہ یہ سوال ’’اسٹیبلشمنٹ سے پوچھا جا سکتا ہے‘‘، اور یہ کہ ’’الطاف بھائی نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا جو پاکستان کے خلاف ہو‘‘۔
style="box-sizing: border-box; margin: 0px 0px 36px; padding: 0px;">اُنھوں نے یہ بات ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’کیفے ڈی سی‘ میں اردو سروس کے چیف فیض رحمان سے ایک انٹرویو میں کہی۔
ندیم نصرت نے کہا کہ ’’یہ بات درست نہیں‘‘ کہ مصطفیٰ کمال کی جانب سے پارٹی تشکیل دینے کے اعلان کے بعد، ’’ایم کیو ایم مشکل دور سے گزر رہی ہے‘‘۔ بقول اُن کے،’’ 1992 میں بھی پارٹی کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا تھا، جو ناکام رہا‘‘۔
اُنھوں نے کہا کہ پارٹی کے قائد کے بارے میں ’’غلط تاثر پھیلایا جا رہا ہے‘‘، جب کہ وہ ’’اپنے منہ سے بار بار کہہ رہے ہیں کہ میں پاکستان کا وفادار ہوں، میں پاکستان کی خدمت کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔ لیکن، جو 1992ء میں ہوا، اُسے جواز بنایا جاتا ہے‘‘۔
پارٹی کے کنوینر نے کہا کہ آج کل پاناما کی بات کی جاتی ہے اور ایم کیو ایم کے ’را‘ سے مبینہ روابط کی بات ہوتی ہے۔ بقول اُن کے، ’’یہ کہنا کہ ایم کیو ایم ریاست سے وفادار نہیں، غلط سوچ ہے، جس کی میں قطعی طور پر تردید کرتا ہوں۔۔۔ پارٹی کے ریاست کے خلاف کوئی غلط عزائم نہیں۔ ایم کیو ایم محبِ وطن تھی، ہے اور رہے گی‘‘۔
تفصیل جاننے کے لیے وڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے: